Significant reduction in tax revenue in the first month of the new government

نئی حکومت کے پہلے مہینے میں ٹیکس وصولی میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ 

ایف بی آر نے اپریل 2022 میں مارچ 2022 کے مقابلے میں تقریباً 100 ارب روپے کم ٹیکس اکٹھا کیا

نئی حکومت کے پہلے مہینے میں ٹیکس وصولی میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔


نئی حکومت کے پہلے ماہ میں ٹیکس محصولات میں واضح کمی، ایف بی آر نے اپریل 2022 میں مارچ 2022 کے مقابلے میں  تقریباً 100 ارب روپے کم ٹیکس اکٹھا کیا۔


نئی حکومت کے پہلے مہینے میں ٹیکس وصولی میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔



تفصیلات کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے اپریل 2022 میں اکٹھے کیے گئے ٹیکس کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔ ایف بی آر کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2022 میں اپریل 2021 کے مقابلے میں تو زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا گیا، تاہم رواں مالی سال کے پچھلے ماہ کے مقابلے میں اپریل میں ٹیکس محصولات میں واضح کمی ہوئی۔

ایف بی آر نے اپریل 2022 میں 480 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کیا، جبکہ مارچ 2022 میں 575 ارب روپے سے زائد ٹیکس اکٹھا کیا گیا تھا، یوں رواں ماہ کے دوران ٹیکس محصولات میں تقریباً 100 ارب روپے کی کمی آئی۔

ایف بی آر رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال میں اب تک 4858 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کیا جا چکا، جو کہ گزشتہ مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ کے محصولات کے مقابلے میں 28 فیصد زائد ٹیکس ہے۔


ایف بی آر کا دعویٰ ہے کہ اس نے اپنے ٹارگٹ سے 239 ارب روپے زائد ٹیکس اکٹھا کیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس اکٹھا کرنے کا 9 ماہ کا ہدف حاصل کر لیا تھا۔ ایف بی آر کے مطابق جولائی سے مارچ تک 4382 کا ٹیکس جمع کیا گیا۔ایف بی آر کی جانب سے بتایا گیا کہ ٹیکس وصولی ہدف سے 247 ارب روپے زیادہ رہا۔ مارچ کے ماہ میں 575 ارب روپے سے زائد کا ٹیکس اکٹھا کیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 21-2020 کی اسی مدت میں 3.394 کھرب کے محصولات کی وصولی کے مقابلے میں مالی سال 22 میں جولائی تا مارچ 29.1 فیصد اضافہ ہوا۔ مارچ میں محصولات کی وصولی ہدف 29 ارب روپے سے کم ہو کر 575 ارب روپے رہ گئی تھی، اس ماہ کیلئے 604 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا تھا، محصولات کی وصولی گزشتہ سال کے 477 ارب روپے سے 20.5 فیصد بڑھ کر 575 ارب روپے ہو گئی تھی۔

Comments